پیر 2 فروری 2026 - 04:00
احکام شرعی | بیوی کے نفقہ کا عرفی معیار

حوزہ/ رہبرِ انقلابِ اسلامی نے «بیوی کے نفقہ کی مقدار اور اس پر خمس» کے موضوع سے متعلق ایک استفتاء کا جواب دیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ازدواجی زندگی میں مالی امور سے متعلق ایک نہایت اہم مسئلہ عورت کا نفقہ ہے، جو شرعاً شوہر پر واجب ہے۔ یہ مسئلہ خاص طور پر نئی ازدواجی زندگی شروع کرنے والے بہت سے جوڑوں کے لیے سوالات کا باعث بنتا ہے۔ ان سوالات میں نفقۂ واجب کی مقدار اور اس پر خمس کے حکم جیسے امور شامل ہیں۔

اسی سلسلے میں حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ‌ای نے عورت کے نفقہ اور اس پر خمس کے بارے میں دو اہم سوالات کے جوابات دیے ہیں، جو قارئین کی خدمت میں پیش کیے جا رہے ہیں۔

سوالات: وہ نفقہ جو شوہر پر بیوی کے لیے واجب ہے، اس کی مقدار کیا ہے؟

کیا شوہر سے حاصل ہونے والا نفقہ اگر سالِ خمسی کے آخر تک بچا رہے تو اس پر خمس واجب ہوتا ہے؟

جوابات: بیوی کا واجب نفقہ ہر وہ چیز ہے جس کی اسے عرف اور معمول کے مطابق ضرورت ہوتی ہے، جیسے کھانا اور اس سے متعلق ضروری اشیاء، لباس، رہائش، عام بیماریوں کے علاج کا خرچ، صفائی ستھرائی کے اخراجات وغیرہ، اور یہ سب اس معیار اور مقدار کے مطابق ہو جو اس جیسی عورتوں کے لیے عرفاً متعارف ہو۔

نفقہ پر خمس واجب نہیں ہے، تاہم احتیاط مستحب یہ ہے کہ اگر سال کے اخراجات کے بعد کچھ نفقہ بچ جائے تو اس کا خمس ادا کر دیا جائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha